بھٹکل:5/نومبر (ایس او نیوز) اپنے حلقہ کے عوام کی طرف سے دئیے گئے رکن اسمبلی کی مد ت میں اپنے حلقہ جاتی مسائل کو حل کے لئے جدوجہد کرنے کے جذبے سے حلقہ کی ہر دیہات میں مختلف مسائل پر عوامی و سرکاری میٹنگوں کا اہتمام کرتے ہوئے بہتر فضا بنانے والے بھٹکل ہوناور ودھان سبھا حلقہ کے رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے ایک اور کارنامہ انجام دیا ہے۔
اپنے حلقہ کے سرکاری اسکولو ں میں اساتذہ کی قلت کو دور کرنے اور عارضی اساتذہ کی تقرری کو لے کربنگلورو کی تعلیمات عامہ کے ڈائرکٹر کے دفتر میں مسلسل 9گھنٹے دھرنا دے کر نامزدگی کا آرڈر لے کر ہی گاؤں پہنچے ہیں۔حکومت کی طرف سے طلبا کی تعلیمی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے درس و تدریس میں کسی طرح کی کوئی کمی نہ ہونے کے لئے مستقل اساتذہ کی تقرری تک شرائط کے ساتھ عارضی اساتذہ کی نامزدگی کے لئے منظوری دی تھی ۔ ریاست کے تمام اضلاع میں کل 10149 عارضی اساتذہ کی نامزدگی کے لئے سرکلر جاری کیا گیا تھا۔
اپنے عوامی میٹنگوں میں بار بار سرکاری اسکولوں کی سدھار اور غریب بچوں کی ترقی کی باتیں کرنے والے منکال وئیدیا اپنے حلقہ کے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو دیکھتے ہوئے حکومت سے کہاکہ متعلقہ ریاستی حکومت کا سرکلر ہمارے ضلع کو بھی تعلق رکھتا ہے ، میرے حلقہ میں بھی عارضی اساتذہ کی نامزدگی کی مانگ لے کر 2نومبر کی دوپہر 1بجے دھارواڑ کے تعلیمی ڈائرکٹر کے آفس پہنچ کرعارضی اساتذہ کی نامزدگی کا آر ڈر دینے تک دھرنے پر بیٹھ گئے ۔ تعلیمی کمشنر، ڈائرکٹر ، متعلقہ اعلیٰ افسران منکال وئیدیا کو سمجھانے بجھانے کی لاکھ کوشش کی۔ حتیٰ کےخود تعلیمی وزیر نے بھی گفتگو کرکے کل یعنی دوسرے دن آرڈر دینے کی بات کہی۔ لیکن منکال وئیدیا اپنی مانگ پر بضد رہے اور دفتر کا وقت ختم ہونے پر دفتر کے باہر آکر دھرنے پر بیٹھ گئے تاکہ افسران کو کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔ کھانا پینا چھوڑے رات 9بجے تک وہیں دھرنے پر بیٹھ رہے تو افسران نے بھی سوچ بچار کیا۔ آخر کا ر کمشنر دفتر پہنچ کر تحریری آرڈر دینے تک رات 30-09بج چکے تھے، اس طرح صرف ضلع میں ہی نہیں بلکہ وہاں بھی افسران کو گرم کرکے آئے ہیں۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں کونسلنگ ہوئے بغیر 2ہزار اساتذہ باقی رہنے کے باوجود وہاں عارضی اساتذہ کی نامزدگی کے لئے آرڈر دیا گیا ہے لیکن اترکنڑا ضلع کے تعلیمات عامہ کے افسر نے ضلع میں 56اساتذہ زائد ہونے کی رپورٹ دئیے جانے کے نتیجے میں عارضی اساتذہ کی نامزدگی نہیں ہوپائی تھی۔ تو رکن اسمبلی منکال دئیدیا کی مانگ تھی کہ جس اصول کی بنیاد پر دیگر اضلاع میں نامزدگی ہوئی ہے تو اترکنڑا ضلع میں کیوں نہیں ۔ فی الحال 49عارضی اساتذہ کا آرڈر دیا گیا ہے جب کہ صرف ہوناور میں ہی 41 اساتذہ کی قلت ہے، منظورشدہ اساتذہ کو پورے ضلع میں تقسیم کرتے ہیں یا ہوناور تعلقہ میں ہی پورے اساتذہ کی نامزدگی ہوتی ہے دیکھنا ہے۔
اپنے حلقہ کے تمام سیاسی پارٹیوں اور اہم امیدواروں کو کراری شکست دے کر ودھان سبھامیں داخل ہوئے منکال وئیدیا ودھان سبھا کے پہلے اجلاس میں شروع کے 4دن خاموش رہنے کے بعد ودھان سبھا کہا تھا ہمیں بھی سوال پوچھنے دیا جائے ہم یہاں خاموش بیٹھ کر جانے کے لئے نہیں آئے ہیں کہتے ہوئے گرجے تھے۔ اس کے بعد ضلع کے سابق ڈی سی کو بھی رکن اسمبلی کو نظرا نداز کئے جانے پر گرم کئے تھے۔ جو افسران کام نہیں کرتے ان کے خلاف لگاتار آواز اٹھاتے رہے ہیں، جو افسران کام کرتے ہیں تو پیٹھ تھپتھپاتے ہیں جو نہیں کرتے ان کے سر چڑھ جاتے ہیں۔ اس طرح اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے دباؤ ڈال کر سب سے زایادہ کام کرنےو الے رکن اسمبلی کے طورپر مشہور ہیں۔